Ranjish hi Sahi Dil he Dukhany k Liye Aa
رنجش ہی سہی، دل ہی دُکھانے کے
لیئے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے
لیے آ
کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم
رکھ
پہلے سے مراسم نہ سہی، پھر بھی
کبھی تو
رسم و رہِ دنیا ہی نِبھانے کے
لیے آ
کس کس کو بتائیں گے جُدائی کا
سبب ہم
تُو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے
لیے آ
اِک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی
محروم
اے راحتِ جاں! مجھ کو رُلانے کے
لیے آ
اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں
اُمیدیں
یہ آخری شمعیں بھی بُجھانے کے
لیے آ
♥—♥—♥—♥—♥
Ye Umer Bhar Ki Musafat Hai Dil
Bara Rakhna
خبر تھی گھر سے وہ نکلا ہے مینہ
برستے میں
تمام شہر لئے چھتریاں تھا رستے
میں
بہار آئی تو اک شخص یاد آیا بہت
کہ جس کے ہونٹوں سے جھڑتے تھے
پھول ہنستے میں
کہاں کے مکتب و مُلّا، کہا ں کے
درس و نصاب
بس اک کتابِ محبت رہی ہے بستے
میں
ملا تھا ایک ہی گاہک تو ہم بھی
کیا کرتے
سو خود کو بیچ دیا بے حساب سستے
میں
یہ عمر بھر کی مسافت ہے دل بڑا
رکھنا
کہ لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے رستے
میں
ہر ایک در خورِ رنگ و نمو نہیں
ورنہ
گل و گیاہ سبھی تھے صبا کے رستے
میں
ہے زہرِ عشق، خمارِ شراب آگے ہے
نشہ بڑھاتا گیا ہے یہ سانپ ڈستے
میں
جو سب سے پہلے ہی رزمِ وفا میں
کام آئے
فراز ہم تھے انہیں عاشقوں کے
دستے میں
♥—♥—♥—♥—♥
Ab Ke Bechry Han Tu Shahid
Kabhi Khawabon Mein Melain
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی
خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں
میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا
کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں
میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر
لو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں
میں ملیں
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں
جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے
حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن
باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں
ملیں
اب نہ وہ میں نہ وہ تو ہے نہ وہ
ماضی ہے فرازؔ
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں
ملیں
♥—♥—♥—♥—♥
Teri Batain Hi Sunany Aay
تیری باتیں ہی سنانے آئے
دوست بھی دل ہی دکھانے آئے
پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں
تیرے آنے کے زمانے آئے
ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے
ہم تجھے حال سنانے آئے
عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم
کون یہ بوجھ اٹھانے آئے
اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم
کچھ تجھے یاد دلانے آئے
دل دھڑکتا ہے سفر کے ھنگام
کاش پھر کوئی بلانے آئے
اب تو رونے سے بھی دل دکھتا ہے
شاید اب ہوش ٹھکانے آئے
کیا کہیں پھر کوئی بستی اجڑی
لوگ کیوں جشن منانے آئے
سو رہو موت کے پہلو میں فراز
نیند کس وقت نہ جانے آئے
♥—♥—♥—♥—♥
Suna Hai Log Use Aankh Bhar Ke
Dekhty Hain
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے
دیکھتے ہیں
تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اسکو خراب حالوں
سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز
اسکی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے اسکو بھی ہے شعر و شاعری
سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول
جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے
ہیں
سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا
ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے
ہیں
سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی
ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے چشر ہیں اس کی غزال سی
آنکھیں
سنا ہے اسکو ہرن دشت بھر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکلیں
اسکی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کی سیاہ چشمگی قیامت
ہے
سو اسکو سرمہ فروش آہ بھر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے
ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے
دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اسکی
جو سادہ دل ہیں اسے بن سنور کے
دیکھتے ہیں
بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل
کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے
دیکھتے ہیں
رکے تو گردشیں اسکا طواف کرتی
ہیں
چلے تو اسکو زمانے ٹھہر کے
دیکھتے ہیں
کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تو تعبیر کر کے
دیکھتے ہیں
اب اسکے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ
کرجائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
♥—♥—♥—♥—♥
Guzar Gay Kai Musam Kai Rutain
Badlin
گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں
اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی
ہیں
فقط تم ہی کو نہیں رنجِ چاک
دامانی
جو سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی
ہیں
تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک
نہیں
میرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد
سے ہیں
تمہارے آئینہ خانے بھی زنگ آلودہ
میرے صراحی و ساغر بھی زرد زرد
سے ہیں
نہ تم کو اپنے خدو خال ہی نظر
آئیں
نہ میں یہ دیکھ سکوں جام میں
بھرا کیا ہے
بصارتوں پہ وہ جالے پڑے کہ دونوں
کو
سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ماجرا
کیا ہے
نہ سرو میں وہ غرورِ کشیدہ قامتی
ہے
نہ قُمریوں کی اداسی میں کوئی
کمی آئی
نہ کھل سکے دونوں جانب محبتوں کے
گلاب
نہ شاخِ امن لیے فاختہ کوئی آئی
تمہیں بھی ضد ہے کہ مشق ستم رہے
جاری
ہمیں بھی ناز کہ جور و جفا کے
عادی ہیں
تمیں بھی زعم کہ مہا بھارتاں
لڑیں تم نے
ہمیں بھی فخر کہ ہم کربلا کے
عادی ہیں
ستم تو یہ ہے کہ دونوں مرغزاروں
سے
ہوائے فتنہ و بوئے فساد آتی ہے
الم تو یہ ہے کہ دونوں کو وہم ہے
کہ بہار
عدو کے خوں میں نہانے کے بعد آتی
ہے
سو یہ حال ہوا اس درندگی کا اب
شکستہ دست ہو تم بھی شکستہ پاء
میں بھی
سو دیکھتا ہوں تم بھی لہو لہان
ہوئے
سو دیکھتے ہو سلامت کہاں رہا میں
بھی
ہمارے شہروں کی مجبور بے نوا
مخلوق
دبی ہوئی ہے دکھوں کے ہزار
ڈھیروں میں
اب ان کی تیرہ نصیبی چراغ چاہتی
ہے
یہ لوگ نصف صدی تک رہے اندھیروں
میں
بہت دنوں سے ہیں ویراں رفاقتوں
کے دیار
بہت اداس ہیں دیر و حرم کی
دنیائیں
چلو کہ پھر سے کریں پیار کا سفر
آغاز
چلو کہ پھر سے ہم ایک دوسرے کے
ہو جائیں
تمہارے دیس میں آ یا ہوں اب کے
دوستو
نہ ساز و نغمہ کی محفل نہ شاعری
کے لئے
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو
چلو
میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے
لئے
♥—♥—♥—♥—♥
Is Qadar Thin Shidtain Judai Ki
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی
کی
آج پہلی بار اس سے میں نے بے
وفائی کی
ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی
بارش میں
یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی
کی
تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری
چاہت میں
آج ان سے مجبوراً تازہ آشنائی کی
ہو چلا تھا جب مجھ کو اختلاف
اپنے سے
تو نے کس گھڑی ظالم میری ہم
نوائی کی
ترک کر چکے قاصد کوئے نامراداں
کو
کون اب خبر لاوے شہر آشنائی کی
طنز و طعنہ و تہمت سب ہنر ہیں
ناصح کے
آپ سے کوئی پوچھے ہم نے کیا
برائی کی
پھر قفس میں شور اٹھا قیدیوں کا
اور صیاد
دیکھنا اڑا دے گا پھر خبر رہائی
کی
دکھ ہوا جب اس در پر کل فرازؔ کو
دیکھا
لاکھ عیب تھے اس میں خو نہ تھی
گدائی کی
♥—♥—♥—♥—♥
Ye Mein Kia Hon Use Bhol Ker
Usi Ka Raha
یہ میں بھی کیا ہوں اسے بھول کر
اسی کا رہا
کہ جس کے ساتھ نہ تھا ہم سفر اسی
کا رہا
وہ بت کہ دشمن دیں تھا بقول ناصح
کے
سوال سجدہ جب آیا تو در اسی کا
رہا
ہزار چارہ گروں نے ہزار باتیں
کیں
کہا جو دل نے سخن معتبر اسی کا
رہا
بہت سی خواہشیں سو بارشوں میں
بھیگی ہیں
میں کس طرح سے کہوں عمر بھر اسی
کا رہا
کہ اپنے حرف کی توقیر جانتا تھا
فرازؔ
اسی لیے کف قاتل پہ سر اسی کا
رہا
♥—♥—♥—♥—♥
Shagufe Gul Ki Sada Mein
Rang-e-Chaman Mein Aao
شگفت گل کی صدا میں رنگ چمن میں
آؤ
کوئی بھی رت ہو بہار کے پیرہن
میں آؤ
کوئی سفر ہو تمہیں کو منزل سمجھ
کے جاؤں
کوئی مسافت ہو تم مری ہی لگن میں
آؤ
کبھی تو ایسا بھی ہو کہ لوگوں کی
بات سن کر
مری طرف تم رقابتوں کی جلن میں
آؤ
وہ جس غرور اور ناز سے تم چلے
گئے تھے
کبھی اسی تمکنت اسی بانکپن میں
آؤ
یہ کیوں ہمیشہ مری طلب ہی تمہیں
صدا دے
کبھی تو خود بھی سپردگی کی تھکن
میں آؤ
ہزار مفلس سہی مگر ہم سخی بلا کے
کبھی تو تم اہل درد کی انجمن میں
آؤ
ہم اہل دل ہیں ہماری اقلیم حرف
کی ہے
کبھی تو جان سخن دیار سخن میں آؤ
کبھی کبھی دوریوں سے کوئی پکارتا
ہے
فرازؔ جانی فرازؔ پیارے وطن میں
آؤ
♥—♥—♥—♥—♥
Ik Bond Thi Laho Ki Sar Dar Tu
Giri
اک بوند تھی لہو کی سر دار تو
گری
یہ بھی بہت ہے خوف کی دیوار تو
گری
کچھ مغبچوں کی جرأت رندانہ کے
نثار
اب کے خطیب شہر کی دستار تو گری
کچھ سر بھی کٹ گرے ہیں پہ کہرام
تو مچا
یوں قاتلوں کے ہاتھ سے تلوار بھی
گری
♥—♥—♥—♥—♥



















0 Comments